Ghalib's Home

A HOME AWAY FROM HOME

Home
Challenges
Management
Language
Philosophy
Education
Personal
SKIN: 1
ZOOM IN HINDI
हिन्दी
 
Sample Prose and Poetry
Stories and Poems
Sample Lessons
Basic Level
Lesson-1
Lesson-2
Intermediate Level
Lesson-3
Lesson-4
Advance Level
Lesson-3
Lesson-4
Hindi Morphology
Inflection-1
Derivation-1
Hindi Close System
HCS-1
HCS-2
Hindi Open Class
HOC-1
HOC-2
Hindi Verbs
Verb Be
Intransitive Verbs
Experiencer Verbs
Transitive Verbs
Passive Verbs
Causative Verbs
Compound Verbs
Conjunct Verbs
Devominal Verbs
Common Speeches
Introduction
Situation-1
Situation-2
Expression-1
Expression-2
Common Hindi Phrases
Phrases
Hindi Sentences
Sentences Types
ZOOM IN URDU
أردو
 
Sample Prose and Poetry
Stories and Poems
Sample Lessons
Basic Level
Lesson-1
Lesson-2
Intermediate Level
Lesson-3
Lesson-4
Advance Level
Lesson-3
Lesson-4
Urdu Morphology
Inflection-1
Derivation-1
Urdu Close System
UCS-1
UCS-2
Urdu Open Class
UOC-1
UOC-2
Urdu Verbs
Verb Be
Intransitive Verbs
Experiencer Verbs
Transitive Verbs
Passive Verbs
Causative Verbs
Compound Verbs
Conjunct Verbs
Devominal Verbs
Common Speeches
Introduction
Situation-1
Situation-2
Expression-1
Expression-2
Common Urdu Phrases
Phrases
Urdu Sentences
Sentences Types

Sample Stories and Poems

اِنسان

آج کی صبح کچھ بدلی سی ہے۔ تھوڑی۔تھوڑی گرمی اور اُمس کا احساس ہو رہا ہے۔ موروں کی مَیاں۔مَیاں اور کویل کی کوو۔کوو بھی کچھ زیادہ شدید اور بے قرار معلوم ہوتی ہے۔ تیتر کا ایک جوڑا میرے سامنے چر رہا ہے۔ شائد آج بارِش ہونے والی ہے۔
میں ان پرندوں کی بے قراری اور شدّت کو اب پہچاننے لگا ہوں۔ مں۔مں۔مں۔مَیاں۔مَیاں۔مَیاں کی آوازیں موروں کی بے قراری ظاہر کرتی ہیں، جبکہ کویل ک۔ک۔ک۔کوو۔کوو۔کوو سے اپنی بے قراری عیاں کرتی ہے۔ چاروں طرف سے بس انہیں پرندوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ بیچ-بیچ میں مَینوں کی چوں۔چوں۔چُک۔چُک بھی سُنائ پڑ جاتی تھی۔ اِککا۔دُککا طوطے بھی ٹائں۔ٹائں کرتے سر سے گزر جاتے تھے۔ تیتر بھی پتّھروں کے بیچ سے کیڑے۔مکوڑوں کو اپنا خوراک بناتے پِٹ۔پِٹ۔ہاں۔پِٹ۔پِٹ۔ہاں کی تیز آوازیں نکال اٹھتے تھے۔ ان سارے پرندوں کی بیصبری، جوش اور اُمنگ اس بات کی شہادت دے رہے تھے کہ پانی اب دور نہیں ہے۔ مَینوں کا ایک جوڈا میرے پاس آیا اور سُکھے تنکوں کو چننے میں مصروف ہو گیا۔ شاید پانی آنے سے پہلے گھر کی پریشانی سے نِجات پا لینا چاہتے ہوں۔ سفید اور نیلے رنگ کی تتلیاں رنگ۔برنگی کاغذی پھولوں کی لتاوں سے کھیل رہی تھیں۔ ہوا کے جھوکوں کے ساتھ پھولوں کی سوکھی پتّیاں زمین پر گر آتیں مانو اپنا کام مکمل کر فخر سے اپنی زندگی کو خیرباد کہ رہی ہوں۔ ایک چھوٹی سی کالی چڑیا پھُدکتی ہوئ وہاں آ نکلی۔ اس سے پہلے یہ سوال میرے ذہن میں آتا کہ اسکا جوڑا کہاں ہے، ایک۔دو کیٹ۔پتنگوں کو اپنی چونچ میں اٹھا کر وہ اُڑ چلی اور سامنے املتاس کے پیڈ کی ڈال پر جا کر اپنے ننہیں۔ننہیں بچّوں کو کھلانے لگی۔ میں وہاں سے اٹھا اور اپنے گھر کی طرف کچھ یوں چل پڑا جیسے پانی کی ظرورت جسے ہو وہ اسکے آمد پر گیت گائں۔ مجھے کیا، میں تو اِنسان ہوں۔

ہُر-ہُر سانپ اور اسکا چھاتا

برسات شروع نہیں ہوئ کہ ہُر-ہُر سانپ اپنے چھاتوں کے ساتھ کھیت کی کیاریوں، باغیچوں اور پھلواریوں میں حاضر۔ تعداد اتنی کہ نڈر ہوے بنا گزارہ نہین۔ ساون اور بھادو میں انکی تعداد بہت ہو جاتی ہے۔ اتنی کہ لوگوں کو اس بات پر سوچنے کے لۓ مجبور ہو جانا پڑتا ہے کہ آخر یہ آتے کہاں سے ہیں۔ انکا رنگ کھیت میں لگے دھان جیسا ہی ہرا-پیلا ہوتا ہے۔ لمبائ ایک ہاتھ کے قریب۔ ایک اُنگلی کے قریب موٹے۔ کہاں سے آتے ہیں یہ ؟ ابھی ایک بھی نہیں، پانی پڑا اور یہ دیکھو چار اِدھر سے، دو اُدھر سے، ایک یہاں پر۔ بچّے پوچھتے ہیں، یہ سب کہاں سے آتے ہیں۔ سبوں کا ایک ہی جواب ہوتا ہے، یہ پانی کے ساتھ برستے ہیں۔ پانی برسنا رُکا نہیں کہ دیکھیے یہ آپکو دو-دو، چار-چار، پانچ-پانچ کے جھُنڈ میں، یا آپس میں رسّی کی طرح لپٹے نظر آ جاینگے۔ انکا نام بھی لوگوں نے ہُر-ہُر شاید اسی لۓ دیا ہے کہ یہ برسات میں جہاں دیکھو وہاں ہُرہُراتے نظر آتے ہیں۔ یا پھر شاید انکا ہرا رنگ ہی ان کے نام کی وجہ ہو۔ یہ زہریلے نہیں ہوتے اور گاوں کےلوگوں اور کسانوں کو ان سے ذرا بھی ڈر نہیں لگتا۔ صرف بچّے انہیں دیکھ تھوڑے گھبرا ضرور جاتے ہیں۔ انکے ساتھ ہی اگر کوئ شۓ برسات میں انہیں کی طرح اچانک نظر آتی ہے تو وہ ہے انکا چھاتا۔ جہاں دیکھو کھیتوں، کیاریوں اور گھاسوں میں سفید-سفید چھوٹے-چھوٹے چھاتے نظر آنے لگتے ہیں۔ لوگ اسے سانپ کا چھاتا کہتے ہیں۔ کوئ ان سے یہ نہیں پوچھتا کہ یہ سانپ ان چھوٹے-چھوٹے چھاتوں میں اپنے کو پانی سے کیسے بچاتے ہیں۔ اور شاید یہ بحث کی کوئ وجہ بھی نہیں۔ ان چھاتوں میں کچھ چھاتے زہریلے بھی ہوتے ہیں، جسے کھا کر اِنسان مر بھی جاتے ہیں۔ چونکہ زہر سانپ کی خاص صفت ہۓ، اسلے لوگ کہتے ہیں کہ سانپ اپنا کچھ زہر انہیں چھاتوں میں چھوڑ دیتے ہیں۔ گاوں کے لوگوں کے لے تو بس اتنا ہی کافی ہے کہ ہُر-ہُر اپنا چھاتا لے برسات میں آتے ہیں اور برسات ختم ہوتے ہی چلے جاتے ہیں۔

تارے

ٹِم-ٹِم ٹِم-ٹِم کرتے تارے؛
جھِل-مِل جھِل-مِل کرتے سارے۔
سورج کی کرنوں سے ہیں شرماتے؛
رات ڈھلے نکل گھر سے سب آتے۔
گُم-سُم، گُم-سُم لگتے نیارے؛
کُم-کُم، کُم-کُم کرتے پیارے۔
چھوٹے-چھوٹے آسماں میں اُڑتے جاتے؛
ننہیں-ننہیں، کھِلکھِلاتے، مسکراتے۔
آپس میں لڑتے نہ کبھی ٹکراتے؛
اپنی-اپنی دھُن میں بڑھتے جاتے۔
سب کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے؛
چھوٹے-بڑے سب، نظروں کو کتنے بھاتے۔
ٹِم-ٹِم ٹِم-ٹِم کرتے تارے؛
جھِل-مِل جھِل-مِل کرتے سارے۔

جنگلی

میں آج پھر اُسی پتھّر پر بیٹھا تھا۔ سامنے دو پیپل کے اور تین-چار نیم کے بڑے-بڑے درخت تھے- ہوا چل رہی تھی۔ اور میں کسی سوچ میں گُم ہوا کا مزہ لے رہا تھا۔ ایک سنہرے رنگ کی پالتو بلّی، جسے گاوں کے لوگ کافی مانتے تھے اور دودھ، کھیر اور ہڈّیاں اُس کے سپرد کرتے رہتے تھے، اُدھر آ نکلی۔ وہ اپنے پنجوں پر کچھ اس طرح دھیرے-دھیرے چل رہی تھی جیسے کسی کی گھات میں ہو۔ اسکی ہوشیاری دیکھنے لائق تھی۔وہ جب اپنے پنجےسُکھے پتّوں پر رکھتی تو کھڑکھڑاہٹ کی آواز تک نہ ہوتی تھی۔ میں بھی چُپ چاپ بیٹھا دیکھنے لگا کہ آخر یہ پالتو بلّی کس کی گھات لگاۓ ہے۔ اچانک ایک دبلی-پتلی بلّی جسکا رنگ مٹیالا-بھورا تھا، جھاڑی سے اپنی خوراک کی تلاش میں نکلی۔ بڑی آزاد، نڈر اور بیخطر اِدھر-اُدھر نظر دوڑاتے ہوے گھومنے لگی۔ اُس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور اُس پالتو بلّی کی طرف بھی، لیکن ایسے جیسے اُسے ہم دونوں سے کوئ لینا-دینا نہ ہو۔ پھر جھاڑیوں میں اِدھر-اُدھر تاکنے لگی۔ اُسکی یہ ادا اس بات کی تصدیق کرتی معلوم پڑتی تھی کہ جیسے اُسے اِنسان اور اِنسانی سماج سے کسی طرح کا ڈر ہو نہ غم اور نہ کوئ خاص لینا-دینا۔ اپنے جینے کے طریقہ سے خوش۔ پھر اِدھر-اُدھر ٹہلنے لگی کہ شائد کچھ مل جاۓ۔ پالتو بلّی جو اب بالکل تیار ہو چکی تھی، نے اچانک ایک زوردار چھلانگ لگائ اور اپنے اور جنگلی بلّی کے بیچ فاصلہ کو ختم کر اُس پر جھپٹ پڑی۔ جنگلی بلّی اس اچانک حملہ سے زمین پر ڈھیر ہو گئ۔ پالتو بلّی نے اسے دھر دبوچا۔جنگلی بلّی کو پالتو بلّی کے پنجوں سے چھوٹنے میں کافی محنت کرنی پڑی۔ خیر، جیسے ہی وہ چھوٹی، بغل کی ایک نیم پر سرسرا کر اِتنی تیزی سے چڑھ گئ کہ میں سوچ بھی نہ سکا۔ وہ بیس-پچیس فیٹ کی اونچائ پر جا کر کچھ اس طرح ایک ڈال پر چُھپ بیٹھی جس سے کہ پالتو بلّی پھر اُسے دیکھ نہ لے۔ پالتو بلّی نے دو-چار بار درخت پر چڑھنے کی کوشش کی، لیکن دو-تین فیٹ سے زیادہ نہ چڑھ پائ۔ وہ وہیں درخت کے نیچے گھومنے لگی۔ جنگلی بلّی اپنی سانس روکے نیم کے درخت کی ڈال پر اُسی طرح بیٹھی رہی۔ جب کافی دیر ہو گئ تو میں وہاں سے اٹھا اور ایک پتّھر مار کر پالتو بلّی کو وہاں سے بھگایا اور خد بھی یہ سوچتے ہوے چل پڑا کہ - جنگلی کون ہے ؟

کوّا

کوّا ہے تو کانو-کانو کرتا ہے۔
مدمست ہے، کچھ بھی رٹتا رہتا ہے۔
فکر نہیں اچھّا- برا سب کہتا ہے۔
ظلم بھاتا نہیں کانو-کانو کرتا ہے۔
کوئ بھی نظر آتا جو مصیبت میں۔
اُڑتا، ہو بیحال کانو-کانو کرتا ہے۔
کالا ہے پر تیج ہے، پنکھ چمکتا ہے۔
نگاہباں مخلوق کا، سویرے جگتا ہے۔
آو ذرہ سُنیں اُسکی بھی آواز کو۔
آج پھر کوّا کانو-کانو کرتا ہے۔

رانی مکّھی

کِہرا، پارس ناتھ کی پہاڑیوں کے بیچ بسا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ گاؤں کے چاروں طرف بس جنگل ہی جنگل۔ جنگل جنگلی پھولوں سے بھرے تھے۔ گاؤں کے بیچوں-بیچ گاؤں کے سرپنچ کا گھر اور گھر کے سامنے برگد کا ایک نہایت ہی قدیم درخت تھا۔ نہ جانے کتنے ہی مخلوق اُس برگد کی درخت پر رھا کرتے تھے۔ لیکن اِدھر کچھ دنوں سے اُس پر مکڑیوں کی آفت آن پڑی تھی۔ جدھر دیکھو مکڑیاں اپنا جالا بنا کر کیٹ-پتنگوں کو اپنا شکار بناتی رہتی تھیں۔ کوئ انجانے میں اُس میں پھنس جاتا، تو کسی سے دوستی کر یہ مکڑیاں اُسے اپنے جالا میں پھنسا لیتی تھیں۔ درخت پر مدمکّھیوں نے بھی اپنا چھتّا لگا رکھا تھا۔ چھتّے کے چاروں طرف مکڑیوں نے بھی اپنا جالا بنا چھوڑا تھا۔ آتے-جاتے مدمکّھیاں اُس میں پھنس جاتیں اور اپنی جان گواں بیٹھتیں۔ مدمکّھیوں کے لۓ یہ جالے فکر کی وجہ بن گۓ تھے۔ اُدھر مکڑیوں کو مدمکّھیوں کے شکار میں بڑا مزہ آتا تھا۔ رانی مکّھی نے آخر تنگ آ کر بیٹھک بلائ اور فیصلہ ہوا کہ اب وہ سب اپنی جگہ بدل دینگی۔ آنہوں نے گاؤں کے باہر پیپل کے درخت پر چھتّا بنا کر وہاں اپنا شہد لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پر رانی مکّھی نے اپنے سیکڑوں عزیزوں کی موت کا بدلہ لینے کی بھی ٹھان رکھی تھی۔ سبھی مکّھیوں نے رانی مکّھی کی بات مان لی اور گاؤں کے باہر والے درخت پر اپنا چھتّا بنا لیا اور اپنا شہد بھی وہاں لے گئں۔ اب رانی مکّھی جب کبھی گاؤں کے پیپل کے پاس سے گزرتی، اُسکے نیچے کھیلتے بچّوں میں سے کسی ایک کو کاٹ اُڑ جاتی۔ سارے گاؤں میں واویلہ اور کہرام مچ جاتا۔ بچّوں کے ماں-باپ پریشان رہنے لگے۔ ایک دن رانی مکّھی نے سرپنچ کے بچّے کو کاٹ لیا۔ سرپنچ بڑا غصّہ ہوا اور اپنے لوگوں کو حکم دیا کہ پیپل کے درخت پر مشعل لے چڑھ جایں اور سارے چھتّوں میں آگ اور دھواں دکھا کر مدھو اُتار لایں۔ آگ اور دھویں سے مکڑیاں اور اُنکے بناۓ جال جل-جل کر گرنے لگے۔ لوگوں نے جب چھتّوں کو آگ دکھائ تو وہ بھی دھو-دھو کر جل اُٹھے۔ سارے چھتّے سوکھے تھے۔ مدھو تو اُنمیں تھا ہی نہیں۔ صرف موم بچا تھا۔ مشعل اور چھتّوں کی آگ اور دھویں سے ساری کی ساری مکڑیاں اور اُنکے بناۓ جالے جل گرے۔ اِس طرح رانی مکّھی نے اپنے عزیزوں کا بدلہ مکڑیوں سے لے لیا۔

ٹھنڈی ہوا

اۓ ٹھنڈی ہوا؛
تو کہاں سے آۓـــ۔
گُل سے مِل؛
گُلشن مہکاۓــــــ۔
اۓ ٹھنڈی ہوا؛
تو کہاں سے آۓـــ۔
دھان کے کھیتوں میں؛
موروں کے پنکھوں میں؛
پیڑوں کی چھاوں میں تو گاےــــــ۔
اۓ ٹھنڈی ہوا،---------۔
موسیقی کے سازں پے؛
تبلہ کے تھاپوں پے؛
ترنگوں کے رنگوں پے تو لہراۓــــــ۔
اۓ ٹھنڈی ہوا،---------۔
ساگر کے لہروں میں؛
باغیچوں کے جھرنوں میں؛
آزادی کے سپنوں میں تو شور مچاۓـــــــ۔
اۓ ٹھنڈی ہوا،---------۔
دِل کے اُمنگوں میں؛
اُمید کی کرنوں میں؛
خوشی کی لہروں میں تو سماۓــــــــ۔
اۓ ٹھنڈی ہوا،---------۔

نیم کا درخت

ایک پیلی بِرنی نے نیم کے درخت کی ایک ڈال پر اپنا کھوتا لگا رکھا تھا۔ آج سویرے سے وہ اپنے کھوتے میں پڑی-پڑی کراہ رہی تی۔ چنچل کالا چیونٹا نیم کے پیڑ کی شاخوں پر اِدھر-اُدھر گھوم رہا تھا۔ وہ جب برنی کے کھوتے کے پاس پہنچا تو برنی کے کراہنے کی آواز سُن ٹھِٹھک کر رُک گیا۔ برنی کے گھر میں جھانکتے ہوے اُس نے آواز لگائ، ُُبرنی بہن، کیا ہوا ؟ بیمار لگتی ہو۔ حکیم صاحب کو بُلا لاؤں ؟
" برنی نے گھر کے اندر سے کراہتے ہوے جواب دیا، ُُچیونٹے بھیّا، کیا بتاؤں۔ کل شام پتہ نہیں کیا کھا لیا، پیٹ میں بہت درد ہے اور اب رہا نہیں جاتا۔ پہلے تو کھانے کے لے مجھے درختوں کے پھل-پھول مِل جاتے تھے، پر اب پیڑ-پودھوں کی اِتنی قلّت ہو گئ ہے کہ اِنسان کے جوٹھوں سے کام چلانا پڑتا ہے۔"
"ارے-رے-رے آپ اِن انسانوں کا چھوڑا کھانا نہ کھایا کریں۔ اُن میں تیل اور نون جیسے اشیا بڑے نقصاندہ ہوتے ہیں۔ پر آپکی بات بھی صحیح ہے۔ اب پیڑ-پودھوں کے پھل-پھول کہاں نصیب ہوتے ہیں۔ ذرہ دیکھے، آسپاس کے درختوں کو تو اِن انسانوں نے کاٹ ڈالا ہے۔ چاروں طرف اپنا کارخانہ کھول رہے ہیں، جن سے ایسی-ایسی گیسیں نکلتی ہیں کہ اِس درخت پر رہنے والے سارے باشندوں کو طرح-طرح کی بیماریاں ہو رہی ہیں۔ وہ زمین جس پر کبھی تفریح کرنے میں کتنا مزہ آتا تھا، اب درختوں سے اُتر کر اُس پر قدم رکھنے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں زہریلے رساؤ میں نہ پھنس جائں۔ گھاس تو جیسے غائب ہو چُکے ہیں۔ پتہ نہیں کب ہمارا یہ نیم کا درخت بھی سوکھ جاۓ۔ اِس پر اب اُتنے کوپل بھی نہیں لگتے۔ ایسے جیسے اسے سانپ سُنگھ گیا ہو۔ اِن شاخوں کو ہی دیکھو، جب میں چہوٹا تھا اُس وقت کتنی جاندار لگتی تھیں۔ اب سب ٹھِٹھُر گئ ہیں جیسے لکوا مار گیا ہو۔ پہلے کوپل بھی کتنے لگتے تھے۔جب چاہا کھا لیا۔ اب ڈھونڈے ملتے ہیں اور اُس پر بھی وہ مزہ کہاں۔ خیر چھوڑے اِن باتوں کو میں حکیم صاحب کو بُلا لاتا ہوں۔ وہ بغل والی ڈالی پر آرام کر رہے ہونگے۔" اِتنا کہ کالے چیونٹے نے اپنی ٹانگوں سے اپنا منہ صاف کیا اور بوڑھے حکیم چیونٹے کو بلانے چل پڑا۔
وہ تیزی سے چھوٹی-چھوٹی ٹہنیوں سے ہوتا ہوا درخت کی دوسری شاخ پر جا پہُنچا۔ حکیم چیونٹے کا کہیں پتہ نہیں۔ بہت دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ حکیم صاحب دھتھرے کا دودھ لانے گے ہیں۔ شاید کسی کے لے دوا بنا رہے ہونگے۔ چیونٹے نے سوچا چلو درخت کے نیچے جا کر دیکھتے ہیں۔ وہ سرسراتا ہوا درخت کی ٹہنیوں سے شاخوں پر اور شاخوں سے تنوں پر اور تنوں سے درخت کی جڑ کے طرف بڑھ گیا۔ ابھی پیڑ کی جڑ کے پاس پہنچا ہی تھا کہ دیکھا حکیم صاحب بڑی مشکل سے درخت پر چڑھ رہے ہیں۔ اُسنے پوچھا، "حکیم صاحب آپ کہاں چلے گے تھے ؟" "کیا بتاوں بابو درخت کے کئ باشِندوں کو ان دنوں عجیب و غریب بماریاں ہو رہی ہیں۔ سوچا دھتھرے کا دودھ مل جاۓگا تو دوا بنا اُنہیں اچّھا کرنے کی کوشش کرونگا۔ مگراب دھتھرا کہاں، اب تو بس زہر ہی زہر زمین پر پھیلا ہے۔ دیکھو میرے پیر کی چمڑی جل گئ۔ پتہ نہیں زمین کو کیا ہو گیا ہے۔ پودھے اب کہاں بچینگے۔" حکیم صاحب نے جواب دیا۔ پھر دونو گہری سوچ میں سر جھکاۓ دھیرے-دھیرے درخت پر چڑھنے لگے۔

پلاش

پلاش کے پتّے، پلاش کے پھول؛
ایک بار جو دیکھے، نہ پاۓ بھول۔
مُکٹ ہے یا بنبھول ہے کس کا؛
انگ-انگ لال ٹُہ-ٹُہ جسکا۔
رنگ دے جنگل، تاج ہے بن کا؛
آن وطن کا شان چمن کا۔
پلاش کے پتّے، پلاش کے پھول؛
ایک بار جو دیکھے نہ پاۓ بھول۔
پتّے ہوتے موٹے-موٹے گول-گول؛
کھڑکھڑاتے ہوا میں ڈول-ڈول۔
بڑے توڑیں، بچّے توڑیں، بنائں ٹوپ؛
تھالی-پیالی بنا پروسیں بھوج۔
پلاش کے پتّے، پلاش کے پھول؛
ایک بار جو دیکھے نہ پاۓ بھول۔

چکری چڑیا

آتے-جاتے میری ملاقات کچھ انجانے دوستوں سے ہو جاتی تھی۔ نہ ٹھیک سے میں اُنہیں جانتا تھا اور اُنکا نام بھی مجھے پتہ نہیں تھا۔ میں جب بھی پتّھر پر بیٹھتا اور کچھ سوچنے کی کوشش کرتا، چڑیوں کا ایک جھُنڈ مجھے پریشان کرتا۔ اُنکی آواز مجھے تنگ تو نہیں کرتی، لیکن میرا دھیان اپنی طرف ضرور کھیچ لیتی تھی۔ یہ کون ہیں اور ہمیشہ جھنڈ میں ہی کیوں رہتی ہیں ؟ کبھی اِس شاخ کبھی اُس ڈال، چنچلتا اور شوخی کی مانو مثال ہوں۔ جب بھی آتیں، اُنکی چیں-چکرـــ-چکرـــ، چیں-چکرـــ-چکرـــ کی آواز سے سارا ماحول گونجنے لگتا تھا۔ جدھر سے گزر جائں چیں-چکرـــ-چکرـــ، چیں-چکرـــ-چکرـــ۔ بالکل چھوٹی اُڑان، بمشیکل پانچ-سات-دس میٹر۔ سب کی سب ساتھ ساتھ، پھر-پھر اُڑنے اور بیٹھنے میں مشغول رہتی تھیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے سوکھے پتّوں کا ڈھیر ہوا کے جھوکوں کے ساتھ ایک سمت سے دوسرے سمت کی جانب اڈتے نظر آتے ہیں۔ قد گرویا یا بگیری سے دگنا ہوگا۔ رنگ سوکھے پتّوں اور ڈالیوں کی طرح مٹمیلا۔ کیا کہوں اِنہیں ؟ ایک دن کچھ سوچا اور اِنکا نام چکری چڑیا رکھ دیا۔ میں اِن کے بارے میں لکھ رہا ہوں اور اُن میں سے ایک میرے سامنے آ کر چیں-چکرـــ-چکرـــ، چیں-چکرـــ-چکرـــ، چیں-چکرـــ-چکرـــ، چیں-چکرـــ-چکرـــ مچا رہی ہے۔ چکری چڑیا کا ایک ساتھ-ساتھ رہنا مجھے اچّھا لگنے لگا تھا۔ یہ پھودکتی بھی کافی ہیں۔ اِنکی چیں-چکرـــ-چکرـــ، چیں-چکرـــ-چکرـــ کی آواز اور اِنکا تیزی سے چکّر لگانا اِنکے نام "چکری چڑیا" کے بالکل موافق ہے۔ گرمی کے موسم میں اِنکے جھنڈ کافی نظر آتے ہیں۔ چکری چڑیا کو موسمی چڑیا بھی مانا جا سکتا ہے۔

چھوٹی چڑیا

یھ ہے اِک چھو ٹی سی چڑیا؛
نام ہے اِسکا گرویّا۔
گھروں میں گھونسلا بناتی ہے؛
صبح سویرے دانا چگنے جاتی ہے۔
کچھ کھاتی ہے، کچھ لے آتی ہے؛
کام سب کرتی، بچّوں کو کھلاتی ہے۔
یھ ہے اِک چھو ٹی سی چڑیا؛
نام ہے اِسکا گرویّا۔
چنچل ہے، پھر- پھر اڑتی جاتی ہے؛
شام ڈھلے ڈالوں پر چہچہاتی ہے۔
ند- نالوں میں پانی پیتی، نہاتی ہے؛
تھکے تو گھونسلوں میں سستاتی ہے۔
یھ ہے اِک چھو ٹی سی چڑیا؛
نام ہے اِسکا گرویّا۔

لِسوڑے، گولر اور کدم

لِسوڑے، گولر اور کدم درختوں کے نام ہیں، یا اُمنگ اور جوش کی جیتی-جاگتی مثال۔ یا خد میں ایک قدرتی احاطہ۔ موسمِ گرماں کی شروعات سے ہی اِن درختوں پر پریندوں کا آنا-جانا شروع ہو جاتا ہے۔ چھوٹی-چھوٹی پتیوں کے کوپل ڈالیوں پر آنے لگتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے گھنے درخت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پوری گرمی میں تو یہ اِتنے گھنے ہو جاتے ہیں کہ سورج کی شعاعیں زمین تک نہی پہنچ پاتی۔ موسمِ گرماں کی تپش سے اپنے اُپر منحصر جانداروں کی حفازت کے لے یہ پتہ نہیں کس-کس طرح کا جتن کرتے ہیں۔ جتنی تیز سورج کی شعاعیں انکی پتیوں پر پڑتی ہیں، اُتنی ہی اِنکی پتیاں ہری اور بڑی ہوتی جاتی ہیں۔ صرف اِتنا ہی نہیں اُتنی ہی زندگی کے لے ضروری گیس بھی یہ اپنے پورے ماحول میں پھیلاتے رہتے ہیں۔ ٹھنڈک کا تو کہنا ہی نہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے سورج کی گرمی سے لڑ رہے ہوں۔ گاوں والوں اور مسافرں کے لے تو یہ دھوپ اور پانی سے بچنے کا ایک قدرتی ذریع بن جاتے ہیں۔ پرندوں اور کیٹ-پتنگوں کے لے بے انتہا خراک اِنکے پاس موجود رہتی ہے۔ ایک ایسی جگہ جہاں اُنکی ساری ضرورتیں پوری ہو جاتی ہوں اور جہاں وہ اپنے عزیز و اقارب اور دِگر جانداروں کے ساتھ آزاد اورمحفوظ زندگی بتا سکتے ہوں۔ یہ درخت اپنے اطراف کا درجہٴ حرارت بھی اِن جانداروں کے موافق بناۓ رکھتے ہیں۔ اصل میں یہ صرف درخت نہیں ہوتے بلکہ لاکھوں جانداروں کا گھر ہوتے ہیں۔ یہ خد تو پھلتے-پھولتے ہیں ہی ساتھ ہی ساتھ اِن جانداروں کی حفاظت اور اِن کے پھلنے-پھولنے میں مدد بھی کرتے ہیں۔

 

 

© 2007 Syed Ghalib Hussain

| Contact |

Last Updated: 10-09-2009